ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہمیں اپنے ملک کے آئین پر فخر ہونا چاہئے، 75؍ ویں یوم جمہوریہ پر صدر مرمو کا خطاب

ہمیں اپنے ملک کے آئین پر فخر ہونا چاہئے، 75؍ ویں یوم جمہوریہ پر صدر مرمو کا خطاب

Fri, 26 Jan 2024 18:55:31    S.O. News Service

نئی دہلی، 26/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے یوم جمہوریہ سے ایک شب قبل قوم  سے اپنے روایتی خطاب میںکہا کہ 75؍ ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر میں آپ سب کودلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں کہ نامساعد حالات کے باوجود ہم نے کتنا طویل سفر طے کیا ہے، تو میرا دل فخر سے بھر جاتا ہے اور اس کی وجہ ہمارا آئین ہے جسے دستور کے معماروں نے نہایت عرق ریزی سے تیار کیا تھا ۔ ہمیں اس آئین پر فخر ہونا چاہئے۔ ہماری جمہوریت کا یہ سال  کئی لحاظ سے ملک کے سفر میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ یہ جشن منانے کا ایک خاص موقع ہے،جس طرح ہم نے آزادی کے ۷۵؍ سال مکمل ہونے پر ’آزادی کا امرت مہوتسو‘  منایا  اسی طرح ہم اس سال بھی جشن مناسکتے ہیں۔ کل  کے دن ہم آئین کے آغاز کا جشن منائیں گے۔ صدر جمہوریہ نے اس موقع پردیگر کئی موضوعات کا احاطہ کیا۔ انہوں نے رام مندر کا ذکر بھی کیا اور ساتھ ہی ملک کی عدلیہ کی تعریف بھی کی ۔ اس کے علاوہ ملک کی معیشت پر بھی کافی دیر تک گفتگو کی ۔

 انہوں نے کہا کہ آئین کی تمہید ’’ہم، بھارت کے لوگ‘‘ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ یہ الفاظ ہمارے آئین کے بنیادی نظریے یعنی جمہوریت کو واضح کرتے ہیں۔ ہندوستان  کا جمہوری نظام، جمہوریت کے مغربی تصور سےکہیں زیادہ قدیم ہے۔ اسی لئےہندوستان کو ’’جمہوریت کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔ایک طویل اور مشکل جدوجہد کے بعد ہمارا ملک غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوا۔ لیکن اس وقت بھی ملک میں اچھی حکمرانی اوراہل وطن کی فطری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے مناسب بنیادی اصولوں اور طریقہ کار کی تشکیل کا کام جاری تھا۔ دستور ساز اسمبلی نے اچھی حکمرانی کے تمام پہلوؤں پر تقریباً تین سال تک تفصیلی غوروخوض کیااور ہمارے ملک کے عظیم بنیادی ضابطوں کی کتاب یعنی آئین ہند کا مسودہ تیار کیا۔آج کے دن ہم تمام اہل وطن  اُن دور اندیش عوامی رہنماؤں اور عہدیداروں کو یاد کرتے ہوئے  ان کے ممنون ہیں جنہوں نے ہمارے عظیم الشان آئین کی تشکیل میں  بیش بہا تعاون پیش کیا۔

 صدر مرمو نے کہا کہ ہمارا ملک اپنی آزادی کے سو سال کی طرف بڑھتے ہوئے امرت کال کے ابتدائی دور سے گزررہا ہے۔ یہ ایک انقلابی تبدیلی کا دور ہے۔ ہمیں اپنے ملک کو نئی اونچائیوں تک لے جانے کا سنہرا موقع حاصل ہوا ہے۔ اس کے لئے میں ملک کے سبھی شہریوں سےآئین میں درج اپنے تمام بنیادی فرائض پر عمل کرنے کی درخواست کروں گی۔ اس سلسلے میں مجھے مہاتما گاندھی کی یاد آتی ہے۔ باپو نے ٹھیک ہی کہا تھا، جس نے صرف اپنے اختیارات پر نظر رکھی، ایسی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ صرف وہی قوم  ترقی کرسکتی ہے جس نے اپنی ذمہ داریوں کو مذہبی فريضہ سمجھ کر انجام دیا ہو۔‘‘

صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی دانشمندانہ قیادت میں پوشیدہ زندگی کے ان بنیادی اصولوں میں رچی بسی آئین کی روح نے ہرطرح کی تفریق کو ختم کرنے کیلئے ہمیں سماجی انصاف کے راستے پر ثابت قدم رکھا ہے۔میں اس بات کا تذکرہ کرناچاہوں گی کہ سماجی انصاف کے لئے مسلسل جہدوجہد کرنے والے کرپوری ٹھاکر جی کے صدسالہ یوم پیدائش کی تقریب کل ہی ختم ہوئی ہے۔کرپوری جی پسماندہ طبقوں کے عظیم حامیوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ان کی فلاح وبہبود کے لیے وقف کردی تھی۔  انہوں نے کہا کہ اپنی جمہوریت کے بنیادی جذبے سے متحد ہوکر ہم ۱۴۰؍کروڑ سے زیادہ ہندوستانی شہری ایک کنبے کی شکل میں رہتے ہیں۔  انہوں نے اس دوران ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا بھی ذکر کیا   اور کہا کہ یہ واقعہ مورخین عہد ساز واقعے کے طور درج کریں گے اور یہ بھی لکھیں گے کہ یہ مناسب عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوا تھا ۔


Share: